خیر و شر
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - نیکی اور بدی، بھلائی اور برائی۔ "بھائی خیر و شر کی یہ کشمکش تو ازل سے چلی آ رہی ہے۔" ( ١٩٨٠ء، وارث، ٣٩٥ )
اشتقاق
عربی سے مشتق اسم 'خیر' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگا کر عربی ہی سے اسم مشتق 'شر' لگانے سے مرکب 'خیر و شر' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - نیکی اور بدی، بھلائی اور برائی۔ "بھائی خیر و شر کی یہ کشمکش تو ازل سے چلی آ رہی ہے۔" ( ١٩٨٠ء، وارث، ٣٩٥ )
جنس: مذکر